Madrasatey

Free quizzesIlm un NahwLesson 1: Part 1 (Jumla Inshaiyya)

Ilm un Nahw · Practice quiz

Ilm un Nahw Lesson 1 Part 1: Jumla Inshaiyya Quiz (with Answers)

Part of the free Arabic Grammar Course (Urdu) on Madrasatey. A Ilm un Nahw practice quiz on Lesson 1: Part 1, with 14 multiple-choice questions, the correct answers and Urdu explanations. Attempt each question, then reveal the answer. No login needed.

✅ Answers included🗣️ Urdu explanations🎯 14 questions🆓 Free to practise
Wifaq-ul-Madaris · Dars-e-Nizami Author: مولانا مشتاق احمد صاحب چرتھاولی حفظہ اللہ (Maulana Mushtaq Ahmad Sahib Charthawli (Hafizahullah)) Textbook: علم النحو

Lesson introduction

علمِ نحو (Ilm un Nahw) عربی زبان کا وہ بنیادی علم ہے جس کے ذریعے ہم جملے کی درست ترکیب اور الفاظ کے اواخر (اعراب) کی حالت پہچانتے ہیں۔ یہی Arabic Grammar کی اصل بنیاد ہے، اور درسِ نظامی و وفاق المدارس کے نصاب میں اسے سب سے پہلے پڑھایا جاتا ہے۔ اِس سبق (علم النحو سبق ۱) میں ہم علمِ نحو کی تعریف، اِس کے فائدے اور اِس کے موضوع لہ (یعنی کلمہ اور کلام) کو سمجھتے ہیں، اور پھر جملہ انشائیہ کی مختلف اقسام کا تعارف حاصل کرتے ہیں۔

جملہ انشائیہ وہ جملہ ہے جس میں کوئی خبر نہیں ہوتی بلکہ طلب، خواہش یا اظہارِ جذبات پایا جاتا ہے۔ اِس کوئز میں آپ جملہ انشائیہ کی اہم اقسام سے واقف ہوں گے: امر (حکم دینا)، نہی (منع کرنا)، استفہام (سوال کرنا)، تمنا (مشکل یا ناممکن خواہش)، ترجی (ممکن خواہش/امید)، ندا (پکارنا)، عرض (نرمی سے درخواست)، تعجب (حیرت کا اظہار) اور عقود (خرید و فروخت کے صیغے)۔ ہر قسم کی پہچان اُس کے مخصوص اسلوب اور مثال سے ہوتی ہے۔

اِس کے ساتھ آپ مرکب غیر مفید کی پہچان بھی سیکھیں گے، یعنی وہ مرکب جس سے کوئی مکمل خبر یا طلب حاصل نہ ہو۔ یہ بنیادی مفاہیم آگے چل کر پورے علمِ نحو کی عمارت کی اساس بنتے ہیں۔

یہ مفت مشقی کوئز (علم النحو مشق) اُن طلبہ کے لیے ہے جو Arabic Grammar in Urdu سیکھنا چاہتے ہیں: چاہے وہ آن لائن عالم کورس (Online Alim Course) کے طالبِ علم ہوں یا خود سے علم النحو آن لائن پڑھ رہے ہوں۔ ہر سوال کے بعد مختصر وضاحت دی گئی ہے تاکہ صرف جواب یاد نہ ہو بلکہ قاعدہ سمجھ آئے۔ نیچے دیے گئے علم النحو لیکچرز اور ویڈیوز کے ساتھ اِس کوئز کو حل کریں تو مفہوم پختہ ہو جائے گا۔
مکمل گریڈنگ سسٹم
مفت مشق کریں، یا مکمل فائدے کے لیے مفت اکاؤنٹ بنائیں

یہ کوئز یہیں مفت حل کیا جا سکتا ہے۔ مفت مدرستی اکاؤنٹ بنا کر خودکار گریڈنگ، اسکور ٹریکنگ، ٹائمڈ ٹیسٹ اور علم النحو کے تمام اسباق میں اپنی پیش رفت حاصل کریں۔

خودکار گریڈنگ پیش رفت کا ریکارڈ ٹائمڈ ٹیسٹ محفوظ اسکور
Question 1
جملہ انشائیہ کی درج ذیل میں سے کون سی قسم طلبِ فعل پر دلالت کرتی ہے؟
Correct answer: B
Explanation
امر جملہ انشائیہ کی وہ قسم ہے جس میں کسی کام کے کرنے کا طلب (حکم) پایا جاتا ہے، یعنی طلبِ فعل۔ جیسے "اِضْرِبْ" (مارو)۔ باقی اقسام میں یا تو کام سے روکا جاتا ہے (نہی) یا سوال کیا جاتا ہے (استفہام)، اِس لیے طلبِ فعل پر دلالت کرنے والی قسم امر ہی ہے۔
Question 2
“لَا تَضْرِبْ” جملہ انشائیہ کی کون سی مثال ہے؟
Correct answer: B
Explanation
"لَا تَضْرِبْ" کا معنیٰ ہے "مت مارو"۔ اِس میں کسی کام سے روکنے یعنی طلبِ ترک کا مفہوم ہے، اور یہی نہی کی تعریف ہے۔ "لا" ناہیہ فعلِ مضارع پر داخل ہو کر ممانعت کا حکم دیتی ہے، اِس لیے یہ نہی کی مثال ہے، امر کی نہیں۔
Question 3
“هَلْ ضَرَبَ زَيْدٌ؟” میں استعمال ہونے والا اسلوب کیا کہلاتا ہے؟
Correct answer: C
Explanation
"هَلْ" حرفِ استفہام ہے جو کسی بات کے بارے میں سوال کے لیے آتا ہے۔ "هَلْ ضَرَبَ زَيْدٌ؟" یعنی "کیا زید نے مارا؟": یہ کسی بات کو جاننے کی طلب ہے، اِس لیے اِس اسلوب کو استفہام کہتے ہیں۔
Question 4
“لَيْتَ زَيْدًا حَاضِرٌ” میں کون سی مثال بیان ہوئی ہے؟
Correct answer: C
Explanation
"لَيْتَ" حرفِ تمنا ہے جو ایسی خواہش کے لیے آتا ہے جس کا حاصل ہونا مشکل یا ناممکن ہو۔ "لَيْتَ زَيْدًا حَاضِرٌ" یعنی "کاش زید حاضر ہوتا"۔ اِسی لیے یہ جملہ تمنا کی مثال ہے، ترجی کی نہیں، کیونکہ ترجی ممکن خواہش کے لیے ہوتی ہے۔
Question 5
“لَعَلَّ عَمْرًا غَائِبٌ” کس قسم کے جملہ انشائیہ کی مثال ہے؟
Correct answer: B
Explanation
"لَعَلَّ" حرفِ ترجی ہے جو کسی ممکن اور متوقع بات کی اُمید یا اندیشے کے لیے آتا ہے۔ "لَعَلَّ عَمْرًا غَائِبٌ" یعنی "شاید عمرو غائب ہو"۔ چونکہ یہ ممکن الوقوع اُمید ہے، اِس لیے اِسے ترجی کہتے ہیں، جبکہ تمنا مشکل یا ناممکن خواہش کے لیے ہوتی ہے۔
Question 6
“بِعْتُ وَاشْتَرَيْتُ” کو جملہ انشائیہ کی کس قسم میں شمار کیا گیا ہے؟
Correct answer: B
Explanation
عقود سے مراد خرید و فروخت اور معاہدات کے وہ صیغے ہیں جو زبان سے ادا کرتے ہی معاملہ منعقد کر دیتے ہیں۔ "بِعْتُ" (میں نے بیچا) اور "اشْتَرَيْتُ" (میں نے خریدا) اِسی قسم سے ہیں، اِس لیے انہیں جملہ انشائیہ کی قسم عقود میں شمار کیا جاتا ہے۔
Question 7
“يَا اللهُ” جملہ انشائیہ کی کون سی قسم ہے؟
Correct answer: C
Explanation
"يَا" حرفِ ندا ہے جو کسی کو پکارنے کے لیے آتا ہے۔ "يَا اللهُ" یعنی "اے اللہ"۔ چونکہ اِس میں مُنادیٰ کو پکارا جا رہا ہے، اِس لیے یہ ندا کی مثال ہے، جو جملہ انشائیہ ہی کی ایک قسم ہے۔
Question 8
“أَلَا تَأْتِينِي فَأُعْطِيَكَ دِينَارًا” کس کی مثال ہے؟
Correct answer: B
Explanation
عرض میں نرمی اور محبت کے ساتھ کسی کام کی درخواست یا پیشکش کی جاتی ہے۔ "أَلَا تَأْتِينِي فَأُعْطِيَكَ دِينَارًا" میں "ألا" کے ذریعے نرمی سے پیشکش ہو رہی ہے کہ "کیا تم میرے پاس نہیں آؤ گے تو میں تمہیں دینار دوں"، اِس لیے یہ عرض کی مثال ہے۔
Question 9
“مَا أَحْسَنَهُ” اور “أَحْسِنْ بِهِ” کس قسم کے جملے ہیں؟
Correct answer: B
Explanation
تعجب کسی چیز کی خوبی یا انوکھے پن پر حیرت کے اظہار کو کہتے ہیں۔ عربی میں اِس کے دو مشہور صیغے ہیں: "مَا أَحْسَنَهُ" اور "أَحْسِنْ بِهِ" یعنی "وہ کتنا اچھا ہے!"۔ یہی صیغہ ہائے تعجب کہلاتے ہیں، اِس لیے دونوں مثالیں تعجب کی ہیں۔
Question 10
مرکب غیر مفید کی پہچان کیا ہے؟
Correct answer: C
Explanation
مرکب غیر مفید وہ مرکب ہے جسے سن کر سامع کو کوئی مکمل فائدہ (خبر یا طلب) حاصل نہ ہو اور بات ادھوری محسوس ہو۔ اِس کے برعکس مرکب مفید سے سننے والا مطمئن ہو جاتا ہے۔ اِسی لیے پہچان یہی ہے کہ اُس سے کوئی خبر یا طلب حاصل نہ ہو۔
Question 11
علمِ نحو سے بنیادی طور پر کس چیز کا علم حاصل ہوتا ہے؟
Correct answer: D
Explanation
علمِ نحو دو چیزیں سکھاتا ہے: (۱) الفاظ کو ملا کر درست جملہ بنانے کی ترکیب، اور (۲) جملے میں الفاظ کے اواخر (اعراب) کی حالت: رفع، نصب، جر۔ اِس لیے صرف ترکیب یا صرف اعراب کہنا ناقص ہوگا؛ صحیح جواب دونوں کا مجموعہ ہے۔
Question 12
علمِ نحو کا فائدہ زیادہ صحیح طور پر کس جملے میں آیا ہے؟
Correct answer: B
Explanation
علمِ نحو کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اِس سے زبان و قلم عربی عبارت میں غلطی سے محفوظ رہتے ہیں، یعنی درست پڑھنا، بولنا اور لکھنا آ جاتا ہے۔ اِسی لیے صحیح ترین جواب "عربی میں بولنے اور لکھنے کی غلطیوں سے حفاظت" ہے۔
Question 13
موضوع لہ سے مراد ہے
Correct answer: C
Explanation
کسی بھی علم کا "موضوع لہ" وہ چیز ہوتی ہے جس کے احوال و عوارض پر اُس علم میں بحث کی جاتی ہے، یعنی وہ بنیادی چیز جس کے گرد سارا علم گھومتا ہے۔ اِس لیے موضوع لہ کا مطلب ہے "علم کا موضوع (جس پر بحث ہو)"۔
Question 14
علمِ نحو کا موضوع لہ کیا ہے؟
Correct answer: B
Explanation
علمِ نحو میں بحث کلمہ (لفظ) اور کلام (جملہ) کے احوال پر ہوتی ہے: کہ کلمہ کب معرب ہوتا ہے، کب مبنی، اور کلام میں اُس کا اعراب کیا ہوگا۔ اِسی لیے علمِ نحو کا موضوع لہ "کلمہ اور کلام" ہے۔
Ready to track your progress?

You have completed the free practice. Create a free account to take the graded, timed version and see your scores build across every Ilm un Nahw lesson.

Start free →

Lesson summary

اِس سبق میں ہم نے علمِ نحو (Ilm un Nahw) کی تعریف، فائدہ اور موضوع لہ (کلمہ و کلام) سیکھا، اور جملہ انشائیہ کی نو اہم اقسام: امر، نہی، استفہام، تمنا، ترجی، ندا، عرض، تعجب اور عقود: کی پہچان اُن کی مثالوں سے کی۔ ساتھ ہی مرکب غیر مفید کا مفہوم بھی واضح ہوا۔

Key takeaways

Frequently asked questions

علمِ نحو کیا ہے؟
علمِ نحو (Ilm un Nahw) عربی زبان کا وہ علم ہے جو جملے کی ترکیب اور الفاظ کے اواخر (اعراب) کی حالت: رفع، نصب، جر: کو سکھاتا ہے۔
علمِ نحو کا موضوع لہ کیا ہے؟
کلمہ اور کلام؛ اِنہی کے احوال (اعراب و بناء وغیرہ) پر علمِ نحو میں بحث ہوتی ہے۔
علمِ نحو کا فائدہ کیا ہے؟
عربی عبارت کو درست پڑھنے، بولنے اور لکھنے کی صلاحیت، یعنی زبان و قلم کی غلطیوں سے حفاظت۔
جملہ انشائیہ کسے کہتے ہیں؟
وہ جملہ جس میں کوئی خبر نہ ہو بلکہ طلب یا خواہش پائی جائے، اور اُس میں سچ یا جھوٹ کا احتمال نہ ہو۔
جملہ انشائیہ اور جملہ خبریہ میں کیا فرق ہے؟
جملہ خبریہ میں سچ یا جھوٹ کا احتمال ہوتا ہے، جبکہ جملہ انشائیہ میں طلب یا خواہش ہوتی ہے اور سچ جھوٹ کا احتمال نہیں ہوتا۔
Lesson 1: Part 2 · Next →

More lessons in this course

Related lessons

Lesson 1: Part 2Open → Lesson 1: Part 3Open → Lesson 1: Part 4Open → Lesson 1: Part 5Open → Lesson 2: Part 1Open → Lesson 2: Part 2Open →

← All Ilm un Nahw lessons & quizzes